959

گزشتہ سے پیوستہ : ماہ اگست میں کپاس کی دیکھ بھال ( دوسرا حصہ)

گزشتہ سے پیوستہ : ماہ اگست میں کپاس کی دیکھ بھال ( دوسرا حصہ)
تحریر: ڈاکٹر زاہد محمود، ڈائریکٹر، سی سی آر آئی ملتان

کپاس کے پودوں کا مرجھاؤ اور جھلساؤ

اگر فصل پانی کمی کا شکار بھی نہیں ہے لیکن پودے مرجھا رہے ہوں یا اگر پودے جھلساؤ کا شکار ہوں تو اس صورت میں کپاس کے کاشتکار متاثرہ پودے کو جڑ سے اکھاڑ کر سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان میں لائیں تاکہ لیباٹری میں متاثرہ پودوں کا تجزیہ کرکے
کاشتکاروں کو سفارشات دی جا سکیں۔

کپاس کے نقصان دہ کیڑے

فصل کے اگاؤ سے لیکر چنائی تک مختلف اوقات میں مختلف اقسام کے نقصان دہ کیڑے فصل پر حملہ کر کے نقصان پہنچاتے ہیں۔ جس سے پیداوار میں بہت زیادہ کمی واقع ہوتی ہے۔

سفید مکھی (WHITE FLY)

یہ کیڑا چھوٹے سے سفید پروانے کی شکل کا ہوتا ہے اس کے بچے بیضوی شکل کے ہوتے ہیں۔ بالغ اور بچے دونوں ہی پتے کی نچلی سطح سے رس چوستے ہیں۔ اس کیڑے کے جسم سے لیس دار مادہ خارج ہوتا ہے جس پر پھپھوندی لگتی ہے اور پتے کا رنگ کا لا سیاہ کردیتی ہے جس سے پتے کی خوراک بنانے کی صلاحیت کم ہوجاتی ہے۔
سفید مکھی کے 5بچہ اوربالغ فی پتہ حملہ ہونے کی صورت میں کاشتکارپائری پراکسیفن400ملی لٹر یا سپائروٹیٹرا میٹ125ملی لٹر+بائیو پاور250 ملی لٹر یا تھائیو سائکلین ہائیڈروجن آگزالیٹ+اسیٹا میپریڈ بحساب 200گرام یا ڈائیا فینتھیران 200ملی لٹر پانی کی مقدار بحساب100لٹر پانی فی ایکڑ کے حساب سے استعمال کریں۔

سبز تیلہ (JASSID)

یہ تکون نما شکل کا کیڑا رنگت میں سبز ہوتا ہے اور بڑی چستی سے پتوں پر چھلانگیں لگاتا ہے۔ اس کے بچے اور بالغ دونوں ہی پتوں کی نچلی سطح سے رس چوستے ہیں۔ زیادہ حملے کی صورت میں پتے کناروں سے گہرے پیلے اور بعد میں سرخ ہونا شروع ہو جاتے ہیں اس کیڑے کا سب سے زیادہ حملہ جولائی اور اگست کے مہینے میں ہوتا ہے جب موسم گرم اور ہوا میں نمی زیادہ ہوتی ہے۔
سبز تیلہ ایک فی پتہ معاشی حد پہنچنے پر کاشتکارڈائی نوٹیفرون100ملی لٹر یا فلونیکامیڈ60گرام یا نائٹن پائرم 50گرام کی مقدار بحساب 100لٹر فی ایکڑ استعمال کریں۔

تھرپس (THRIPS)

یہ رس چوسنے والا کیڑا زیرہ نما لمبوتری شکل کا ہوتا ہے۔ رنگت میں ہلکا بھورا یا سیاہ ہوتا ہے۔ اس کیڑے کے بالغ اور بچے دونوں پتے کی نچلی سطح کو کھرچ کر رس چوستے ہیں۔ یہ کیڑا ڈوڈیوں اور پھولوں پر بھی حملہ کرتا ہے اس کا حملہ فصل کے شروع سے لیکر ستمبر کے آخر تک رہتا ہے۔ زیادہ حملے کی صورت میں پتے کی نچلی سطح چاندی کی طرح سفید یا بھوری ہو جاتی ہے۔
تھرپس کے10فی پتہ حملہ کی صورت میں کلوروفینا پائر125ملی لٹر یا سپنٹورام50ملی لٹر بحساب100لٹر پانی کی مقدار استعمال کریں۔

ملی بگ

ملی بگ کے حملے کی صورت میں کاشتکارپروفینو فاس80ملی لٹر بحساب 20لٹر پانی میں ملا کر سپرے کریں چونکہ اس کا حملہ ٹکڑیوں کی صورت میں ہوتا ہے اس لئے پورے کھیت کی بجائے اس پر اسپرے ٹکڑیوں پر ہی کی جائے اور حفظ ماتقدم کے طور پر متاثرہ پودوں کے اردگرد25سے30پودوں پر بھی اس کا سپرے کیا جائے۔
ڈوڈیاں، پھول اور ٹینڈے بننا شروع ہوتے ہیں تو ڈوڈیوں اور ٹینڈوں کی نقصان دہ سنڈیاں مثلاً چتکبری سنڈی،گلابی سنڈی اور امریکن سنڈی پھل کو کھا کر پیداوار کا بہت نقصان کرتی ہیں جبکہ لشکری سنڈی پھل کے ساتھ ساتھ فصل کے سبز پتوں کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔
15اگست سے لیکر 5 اکتوبر تک فصل بھر پور پھل اٹھانے کے مراحل سے گزرتی ہے اور اسی دورانئے میں پھل کی سنڈیوں کا حملہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔ لہٰذا فصل کی پیداوار کو بچانے کے لئے ان نقصان دہ رس چوسنے والے کیڑوں اور پھل کی سنڈیوں کا تدارک کرنا بہت ہی ضروری ہے۔ ان میں سب سے خطرناک گلابی سنڈی ہے جسے چور کیڑا بھی کہا جاتا ہے.

گلابی سنڈی(PINK BOLLWORM)

یہ سنڈی کپاس کی فصل کے پھل کی بہت خطرناک سنڈی ہے۔ جو نہ صرف ڈوڈیوں بلکہ چھوٹی عمر کے ٹینڈوں کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔ اس سنڈی کی مادہ ڈوڈیوں اور زیادہ سے زیادہ 20دن کی عمر کے ٹینڈوں پر ایک ایک کر کے 100سے 250انڈے دیتی ہے۔ جب انڈے سے اس سنڈی کا بچہ نکلتا ہے تو یہ شیشے کی مانند شفاف ہوتا ہے جو چوتھی حالت میں پہنچنے تک رنگت میں گلابی ہوجاتا ہے اس لئے اس کو گلابی سنڈی کہتے ہیں۔ فصل پر پھل لگتے ہی اس سنڈی کا حملہ شروع ہو جاتا ہے اور ستمبر کے مہینے میں یہ حملہ شدت اختیار کر جاتا ہے۔چھوٹے اور کچے نرم ٹینڈے (20دن تک عمر کے)اس کی مرغوب غذا ہیں۔
چونکہ مادہ ڈوڈیوں اور نازک ٹینڈوں پر انڈے دیتی ہے بچہ انڈے سے نکلتے ہی ڈوڈی اور ٹینڈے میں داخل ہو جاتا ہے۔ ڈوڈی میں بچہ نر اور مادہ حصہ کو کھاتا ہے اور لیس دار مادہ کو خارج کرتا ہے جس سے پھول کی پتیاں آپس میں چمٹ جاتی ہیں اور پھول پورا کھلنے کی بجائے مدھانی نما شکل میں کھلتا ہے اور مدھانی نما پھول اس کے حملے کی سب سے بڑی پہچان ہے۔ ٹینڈے میں یہ سنڈی داخل ہو کر ٹینڈے کے بیج کو کھا کر ضائع کر دیتی ہے۔ اس سنڈی کا پھل میں دا خل ہونے کا سوراخ بہت چھوٹا ہوتا ہے جس کو دیکھا نہیں جاسکتا۔ اس سنڈی کے متاثرہ ٹینڈے اچھی طرح سے نہیں کھلتے اور ان ٹینڈوں کی روئی کی کوالٹی بھی خراب ہوتی ہے۔20دن تک کی عمر کے ٹینڈوں پر اس کا حملہ زیادہ ہوتا ہے۔
کاشتکار گلابی سنڈی کے حملہ کی صورت میں سپینٹورام100ملی لٹر فی ایکڑ100لٹر پانی میں ملا کر سپرے کریں جبکہ گلابی سنڈی کی
مینجمنٹ کے لئے کاشتکار6سے8جنسی پھندے فی ایکٹر کے حساب سے لگائیں۔

بیج کے لئے لگائی گئی کاشتہ فصل کے اقدامات

خالص بیج کے حصول کے لئے اپریل کاشتہ کپاس والے کاشتکارکپاس کی قسم کے علاوہ دوسری اقسام کے پودے الگ کرلیں یعنی روگنگ کے عمل سے کپاس کے خالص پن کو یقینی بنائیں۔ اور بیج بنانے کے لئے چنی گئی پھٹی صحتمند،مکمل کھلی ہوئی اور کیڑے مکوڑوں سے متاثرہ نہ ہو۔کاشتکار چنی گئی پھٹی کو دھوپ میں خشک کریں اور جلد از جلد اس کی جننگ مکمل کر لیں اور ا س کے بعد دوبارہ دھوپ لگواکر محفوظ کر یں

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں