139

“کووڈ فیس ماسک میں کپاس کا کردار” ………… تحریر : ساجد محمود

جب انسان اس دنیا میں پیدا ہوتا ہے تو اس کا پہلا لباس بھی کپاس سے بنا ہوتا ہے اور جب اس جہان سے رخصت ہوتا ہے تو کفن کی صورت میں بھی اس کا لباس کپاس کا ہی بنا ہوتا ہے یوں ہم کہ سکتے ہیں کہ انسان کی زندگی وموت اور اس کی بیچ کے تمام مراحل میں کپاس لازم وملزوم ہے۔ غرضیکہ کپاس اور ہماری زندگی کا شروع دن ہی سے چولی دامن کا ساتھ رہا ہے۔ اگر ہم موجودہ حالات پرنظر ڈالیں تو کورونا سے بچاؤ کے لئے حفاظتی سازوسامان کی تیاری میں بھی کپاس کی اہمیت سے کسی صورت انکار ممکن نہیں ہے۔

کورونا وائرس سے ممکنہ بچاؤ کے لئے عالمی ادارہ صحت اور طبی ماہرین چہرے کی حفاظت خاص کر ناک اورمنہ کو ڈھانپنے کے لئے فیس ماسک کی اہمیت و ضرروت پر بہت زور دے رہیں۔ کورونا وائرس دراصل سانس کی بیماری کی ہی ایک قسم ہے جو مختلف جسمانی علامات کے ذریعے ظاہر ہوکر انسانی زندگی کی بقاء کے لئے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ کورونا سے متاثرہ شخص جب کھانستا ہے یا چھینک لیتا ہے تو اس کی ناک یا منہ سے چند بوندیں نکل کر ہوا میں معلق رہ جاتی ہیں جو آس پاس موجود صحت مندانسانوں میں منتقل ہو کر بیماری کے پھیلاؤ کا سبب بنتی ہیں۔ ماہرین کی رپورٹ کے مطابق نصف سے زائد متاثرہ افراد میں کورونا بیماری کی علامات ہی ظاہر نہیں ہوتیں۔ مئی کے آغاز ہی میں عالمی ادارہ صحت کی طرف سے اس بیماری سے بچاؤ کے لئے 75ممالک میں جو کہ دنیا کی کل آبادی کا 88 فیصد ہیں ان میں فیس ماسک کے استعمال کو لازمی قرار دیا جا چکا ہے۔ اور ایسے ترقی پذیر و کم ترقی یافتہ ممالک جہاں زیادہ تر آبادی خط غربت کو چھو رہی ہے وہاں چہرے کے ماسک کی فراہمی نہایت کم ہیں یا پھر ان تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ایسے ممالک میں غرباء کی اکثریت کے پاس فیس ماسک کی قوت خرید بھی نہیں ہے جو ایک بڑا مسئلہ ہے جبکہ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ پولیسٹر، کاغذ اور دیگر مصنوعی اشیاء سے تیار کردہ فیس ماسک کی نسبت کپاس کے ریشوں سے بنے فیس ماسک کورونا کے خلاف زیادہ مؤثر،پائیدار، سستے اور دوبارہ استعمال کے قابل ہیں۔ خواتین گھر میں موجود خالص سوتی کپڑے کو استعمال میں لا کر فیس ماسک با آسانی تیار کر سکتی ہیں جو کم قیمت ہونے کے علاوہ چہرے کو اچھی طرح ڈھانپ کر کورونا کے خلاف حفاظتی اقدام کے لئے کافی مؤثر ہیں۔

کپاس کے ریشوں سے بنے فیس ماسکس پوری دنیا میں کافی مقبول ہو رہے ہیں۔ فیس ماسک کا بنیادی مقصد سانس لینے میں بذریعہ فلٹریشن ہوا کے گزر میں آسانی،وائرس کے گزر کی روک تھام اور جسمانی راحت کا شامل ہونا ہے۔ فیس ماسک کے استعمال سے کورونا کے مرض سے کافی حد تک بچاؤ ممکن ہے۔ بیجنگ شہر کی ایک سروے رپورٹ کے مطابق ایسے افراد جنہوں نے فیس ماسک کا استعمال کیا ان میں 70فیصد کورونا سے بچاؤممکن ہوسکا جبکہ فیس ماسک نہ پہننے والے افراد کی بڑی اکثریت اس بیماری کا شکار ہوئی۔

سائنسی تحقیقی مقالہ جات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کپاس کے ریشوں سے بنے فیس ماسک، پولیسٹر،نائلون یا دیگر مصنوعی اشیاء سے بنائے گئے فیس ماسک کے مقابلہ میں کورونا کے خلاف زیادہ مؤثراور سودمند ہونے کے علاوہ چہرے کی حفاظت کے لئے نرم وملائم خاصیت کے حامل ہیں۔ مصنوعی اشیاء سے بنائے گئے فیس ماسک میں کیمیائی اجزاء اور دیگر شامل اجزاء کورونا وائرس،بیکٹیریا دوسرے متعدی پھپھوندی نما جراثیموں کے خلاف زیادہ مؤثر نہیں اور نہ ہی ایسے ماسک سانس لینے میں زیادہ سہل اور پائیدار ہیں۔ ٹھوس سائنسی شواہد اور تحقیقات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ کپاس کے ریشوں سے بنے فیس ماسک کا استعمال کورونا کے انفیکشن اوراس کے پھیلاؤ کو روکنے اور دیگر متعددی جراثیمی بیماریوں سے بچاؤکے لئے زیادہ مفید اور ناگزیر ہے۔ سرجیکل ماسکس کی کمیابی کے باعث انڈیا اور امریکہ میں صحت عامہ سے متعلق ایجنسیاں اپنے شہریوں کو گھروں میں تیار کردہ خالص سوتی کپڑے، سوتی ٹی شرٹس یا روئی کی تہہ نما شیٹ سے بنے پائیدار فیس ماسک کے استعمال کی سفارشات پر زور دے رہے ہیں۔ کووڈ 19کے بعد دنیا کی حقیقت یکسر بدل چکی ہے اور فیس ماسک خاص طور پر کپاس کے ریشوں سے تیار کردہ فیس ماسکس کا استعمال دنیا بھر میں تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے۔ ہندوستان کی معروف ڈریس ڈیزائنر ایوشی گڈوانی جو ورک ویر انٹرنیشنل برانڈ کے نام سے دنیا بھر میں جانی جاتی ہیں ان کا کہنا ہے کہ خالص کپاس کے ریشوں سے بنے ماسکس کورونا وائرس سے بچنے میں کافی مفید پائے گئے ہیں اور اسی وجہ سے وہ بڑی تعداد میں ایسے ماسکس تیار کر رہی ہیں جو چہرے کی نفاست کو برقرار رکھتے ہوئے متعدی امراض سے بھی محفوظ ہوں گے۔ گڈوانی کا مزید کہناہے کہ کپاس کے ریشوں میں یہ خاصیت پائی جاتی ہے کہ وہ معمولی سے معمولی جسامت رکھنے والے جراثیم خاص کر کورونا وائرس کے گزرنے میں دافع جراثیم کا کردار ادا کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ وہ ماحولیاتی خطرات سے بھی بچاتے ہیں۔

کورونا وائرس کی جسامت تقریبا 50سے200نینو میٹر قطر کے برابر ہوتی ہے۔آپ آسان الفاظ میں یوں کہ لیں کہ یہ سائز میں اتنے چھوٹے اور باریک ذرات ہوتے ہیں کہ عام انسانی آنکھ انہیں دیکھنے سے بالکل ہی قاصر ہے۔ انہیں صرف خاص الیکٹرانک خوردبین کی مدد سے ہی دیکھا جا سکتا ہے جبکہ کورونا سے بچاؤ کے لئے استعمال ہونے والے فیس ماسک کی خصوصیت بلحاظ فلٹریشن300نینومیٹر قطر ہے۔ یعنی ایسے فیس ماسک کورونا وائرس کو منہ یا ناک میں سے جانے سے روکتے ہیں ان کی خاصیت کورونا کی جسامت اور سائز سے بھی زیادہ باریک ہوتی ہے جو وائرس کے حملے سے بچاؤکاذریعہ بنتی ہے ۔یہ دراصل فیس ماسک کے اندر ایک باریک جھلی نما تہ ہوتی ہے جو کورونا کے خلاف کافی مؤثر اور بہتر نتائج کی حامل ہے۔
کپاس سے بنے فیس ماسک میں روئی کے ریشے غیر ہمورا اور کھردرے ہوتے ہیں جو کورونا وائرس کے گزرنے میں کافی دشواری پیداکرتے ہیں جبکہ مصنوعی اشیاء مثلاً پولیسٹر،نائلون وغیرہ سے بنائے گئے فیس ماسک میں مصنوعی اجزاء عام طور پر ہموار سطح کے حامل ہوتے ہیں جو کورونا وائرس کے گزرنے میں روئی کے ریشوں سے بنے فیس ماسک کے مقابلہ میں زیادہ دشواری پیدا نہیں کرتے۔کورونا کومؤثر ہونے اور پھیلنے کے لئے نمی سے بچاؤ کی ضرورت ہوتی ہے۔جبکہ روئی کے ایک گرام ریشے میں 23.5ملی گرام سے28.1ملی گرام پانی کی مقدار ہو نے کی وجہ سے کپاس سے بنے ماسک مصنوعی ریشوں سے تیار کردہ فیس ماسک کے مقابلہ میں زیادہ بہتر اور مفید ثابت ہوئے ہیں۔سائنسی تحقیق سے ایک اور بات بھی سامنے آئی ہے کہ کپاس سے بنے فیس ماسک کے مقابلہ میں سرجیکل فیس ماسک میں کورونا وائرس کا گزر قدرے آسان ہے اسی لئے محققین کے مطابق روئی کے ریشوں والے فیس ماسک سرجیکل فیس ماسک سے بہتر نتائج کے حامل ہیں۔ ماہرین نے 15مختلف فیبرکس مثلاً ریشم، اون، شیفون وغیرہ سے بنے مختلف فیس ماسک میں سے کورونا وائرس کے گزر کا تجربہ کیا اور ان سب میں روئی سے بنے فیس ماسک کے نتائج اوروں کی نسبت زیادہ اچھے پائے گئے۔ماہرین نے پھپھوندی جراثیم کے زندہ رہنے اور ان کی بقاء سے متعلق بھی مختلف ٹیسٹ کئے اور ٹیسٹ کے نتائج سے پتا چلا کہ 100فیصد پولیسٹر والے فائبرز پر پھپھوندی کے جراثیم19.5دن تک زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتے تھے جبکہ100فیصد سوتی کپڑے پر ان کا خاتمہ5دن سے بھی کم رہا۔اسی طرح8مختلف قسم کے فائبرز سے بنے کپڑوں پر کئے گئےٹیسٹ کے نتیجے سے پتا چلا کہ کپاس اور اس بنی مختلف مصنوعات میں وائرس کے گزرنے کی رکاوٹ کی کارکردگی دیگر فائبرز کے مقابلہ میں 100فیصد بہتر رہی۔

محققین کے مندرجہ بالا تجربات سے آخر میں یہی نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ کپاس سے بنے فیس ماسک دیگر فائبرز سے بنے فیس ماسک کے مقابلہ میں زیادہ مفید اور پائیدار ثابت ہوئے ہیں اور دنیا بھر میں روئی کے ریشوں سے بنے فیس ماسک کی مانگ میں روز بروز اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ غرضیکہ ہر شعبہ ہائے زندگی میں ہم کسی طرح بھی کپاس اور اس سے بنی مختلف مصنوعات کی اہمیت اور ان کے استعمال سے انکار نہیں کر سکتے۔

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں